1. [5:83] | Wa-itha samiAAoo ma onzila ilaalrrasooli tara aAAyunahum tafeedu mina alddamAAimimma AAarafoo mina alhaqqi yaqooloona rabbanaamanna faoktubna maAAa alshshahideena
| وإذا سمعوا ما أنزل إلى الرسول ترى أعينهم تفيض من الدمع مما عرفوا من الحق يقولون ربنا آمنا فاكتبنا مع الشاهدين وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ |
|---|
| Yusuf Ali | And when they listen to the revelation received by the Messenger, thou wilt see their eyes overflowing with tears, for they recognise the truth: they pray: "Our Lord! we believe; write us down among the witnesses.
|
| Words | | |
| Tahir ul Qadri | اور (یہی وجہ ہے کہ ان میں سے بعض سچے عیسائی جب اس (قرآن) کو سنتے ہیں جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اتارا گیا ہے تو آپ ان کی آنکھوں کو اشک ریز دیکھتے ہیں۔ (یہ آنسوؤں کا چھلکنا) اس حق کے باعث (ہے) جس کی انہیں معرفت (نصیب) ہوگئی ہے۔ (ساتھ یہ) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب! ہم (تیرے بھیجے ہوئے حق پر) ایمان لے آئے ہیں سو تو ہمیں (بھی حق کی) گواہی دینے والوں کے ساتھ لکھ لے، |
2. [9:92] | Wala AAala allatheena ithama atawka litahmilahum qulta la ajidu maahmilukum AAalayhi tawallaw waaAAyunuhum tafeedumina alddamAAi hazanan alla yajidoo mayunfiqoona
| ولا على الذين إذا ما أتوك لتحملهم قلت لا أجد ما أحملكم عليه تولوا وأعينهم تفيض من الدمع حزنا ألا يجدوا ما ينفقون وَلاَ عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا أَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّواْ وَّأَعْيُنُهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا أَلاَّ يَجِدُواْ مَا يُنفِقُونَ |
|---|
| Yusuf Ali | Nor (is there blame) on those who came to thee to be provided with mounts, and when thou saidst, "I can find no mounts for you," they turned back, their eyes streaming with tears of grief that they had no resources wherewith to provide the expenses.
|
| Words | | |
| Tahir ul Qadri | اور نہ ایسے لوگوں پر (طعنہ و الزام کی راہ ہے) جبکہ وہ آپ کی خدمت میں (اس لئے) حاضر ہوئے کہ آپ انہیں (جہاد کے لئے) سوار کریں (کیونکہ ان کے پاس اپنی کوئی سواری نہ تھی تو) آپ نے فرمایا: میں (بھی) کوئی (زائد سواری) نہیں پاتا ہوں جس پر تمہیں سوار کر سکوں، (تو) وہ (آپ کے اذن سے) اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں (جہاد سے محرومی کے) غم میں اشکبار تھیں کہ (افسوس) وہ (اس قدر) زادِ راہ نہیں پاتے جسے وہ خرچ کر سکیں (اور شریک جہاد ہو سکیں)، |